حیدرآباد30ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) پولیس نے جعلی قاضی عبداللہ رفیع کو جمعہ کے روز گرفتار کیاہے جس پر200 جعلی شادی کرانے (نکاح پڑھانے) کا الزام ہے۔پولس کو شبہ ہے کہ ممبئی کے سربراہ کاظم فرید احمد خان بھی رفیع کے ساتھ اس عمل میں شامل تھے جو فرضی طریقہ سے نکاح پڑھاتے تھے۔اس صورت میں ان سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ۔واضح ہو کہ حالیہ دنوں میں حیدرآباد پولیس نے ایک گروہ کا انکشاف کیا ہے جونا بالغ لڑکیو ں کا عرب کے شیوخ سے نکاح کرواتا تھا ۔پولیس نے تین قاضیوں کورفیع اور فرید سمیت گرفتار کیاہے، جنہیں دو دن کے لئے پولیس کی حراست میں رکھا گیا ہے۔ تحقیق کاروں کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ2014ء سے رفیع کے لئے وقف بورڈ نے شادی فارم جاری نہیں کیا ہے۔رفیع نے 200 نابالغ لڑکیوں کی عرب کے شیوخ سے شادی کروائی ہے ۔اے سی پی محمد تاج الدین احمد نے بتایا کہ جب ہم نے وقف بورڈ سے رابطہ کیا تو یہ معلوم ہوا کہ رفیع کو ایک بھی نکاح فارم نہیں دیا گیا ہے ۔ رفیع کی بطور قاضی کی تقرری کچھ وقت تک کیلئے خارج کر دی گئی تھی ۔اس نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جہاں مقدمہ زیر التواء ہے۔اس کو قاضی کی ذمہ داری قبول کرنے کی اجازت نہیں تھی اس وجہ سے انہیں وقف بورڈ نے کوئی نکاح نامہ نہیں دیا تھا۔